آسماں میری حالت پہ روتا رہا
آنسوؤں سے میں آنکھوں کو دھوتا رہا
دل پہ نشتر چلے جس کی غفلت سے وہ
بے خبر اپنے ہی گھر میں سوتا رہا
زخم مرہم دکھا کر کریدے گئے
میں دلاسے کی چادر بھِگوتا رہا
دیپ فرقت میں یادوں کے بُجھتے رہے
دل کے نقشے میں وہ دور ہوتا رہا
راس آئی نہ آب و ہوا شہر کی
پیار کے بیج صحرا میں بوتا رہا
زخم دل کے سبھی بھر تو جاتے مگر
وقت یادوں کے خنجر چبھوتا رہا
پار لگ جاتی یہ امن کی ناؤ، پر
ہر دفعہ اک جنونی ڈبوتا رہا

0
1