خموش آنکھ ہے، دیوار بولتی کیوں ہے
صدا جو اٹھتی بھی ہے اس میں بے بسی کیوں ہے
میں اپنے گھر میں کئی روز سے مقیّد ہوں
مرے وجود میں ہجرت کی آگہی کیوں ہے
وہ ایک شخص جو لفظوں میں آ نہیں سکتا
اسی کی یاد مری شاعری بنی کیوں ہے
مجھے تو عشق نے ہر شے میں روشنی بخشی
کسی میں تیرگی اتنی ٹھہر گئی کیوں ہے
کسی کی بات میں دریا رواں سا لگنے لگا
کسی کی ذات میں خوشبو بسی ہوئی کیوں ہے
میں اپنے آپ سے ملنے کی جستجو میں ہوں
مرے وجود میں اک اور آدمی کیوں ہے
یہ کون چُپ کی حویلی میں جا چھُپا طارِقؔ
کسی نے اپنی کہانی مجھے کہی کیوں ہے

0
7