دل کے ویرانۂ ہستی میں صدا کوئی نہ تھی
یہ بھی الزام تھا ہم پر کہ وفا کوئی نہ تھی
درد ایسا تھا کہ خوشبو کی طرح پھیل گیا
زخم ایسا تھا لگی جس پہ دوا کوئی نہ تھی
عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے خود اپنی مثال
آئنہ دیکھا تو معلوم ہوا کوئی نہ تھی
جس کو کہتے تھے تمنّا تھی تری یاد فقَط
اور اس یاد کے پردے میں انا کوئی نہ تھی
رازِ ہستی بھی عجب شے ہے سمجھ میں آیا
جس جگہ “میں” کا گماں تھا وہ جگہ کوئی نہ تھی
ہم نے سجدوں میں کئی بار اُسے ڈھونڈا تھا
دل میں اُترے تو کھُلا خاص دُعا کوئی نہ تھی
اپنے ہونے پہ بہت ناز تھا پہلے ہم کو
تیرے در پر جو گئے اپنی بقا کوئی نہ تھی
عشق نے ہم کو فنا کر کے یہ سمجھایا ہے
موت کچھ شے نہیں پردوں کے سوا کوئی نہ تھی
دل کے صحرا میں عجب نور کھلا آخرِ شب
ابر برسا تھا مگر چھائی گھٹا کوئی نہ تھی
رازِ ہستی کے کھلے یوں مرے دل پر معنی
تو ہی ہر سمت تھا جب اور دَشا کوئی نہ تھی
طارق اک موجِ تجلّی مرے اندر ہے مقیم
ورنہ اس خاک کے ذرے میں جِلا کوئی نہ تھی

0
2