| چراغِ محبت جلایا ہے دل میں |
| حسیں نامِ احمد سجایا ہے دل میں |
| محبت ہے اُن سے چھپائیں گے کیسے |
| ذکر مصطفیٰ کا بٹھایا ہے دل میں |
| ہے روشن سویرا یہ وادیء جنت |
| مدینے سے موسم جو آیا ہے دل میں |
| نبی کے جو نغمے دہر گا رہی ہے |
| اسے نغمہ رب نے سکھایا ہے دل میں |
| سنہری وہ جالی منور مدینہ |
| ہے عکسِ حسیں جو لگایا ہے دل میں |
| دعا ہو مدینے سے آئے بلاوا |
| بڑا سوز ہم نے دبایا ہے دل میں |
| ہے محمود دل جاں غلامی میں اُن کی |
| جہاں کا ہے نغمہ جو گایا ہے دل میں |
معلومات