چراغِ محبت جلایا ہے دل میں
حسیں نامِ احمد سجایا ہے دل میں
محبت ہے اُن سے چھپائیں گے کیسے
ذکر مصطفیٰ کا بٹھایا ہے دل میں
ہے روشن سویرا یہ وادیء جنت
مدینے سے موسم جو آیا ہے دل میں
نبی کے جو نغمے دہر گا رہی ہے
اسے نغمہ رب نے سکھایا ہے دل میں
سنہری وہ جالی منور مدینہ
ہے عکسِ حسیں جو لگایا ہے دل میں
دعا ہو مدینے سے آئے بلاوا
بڑا سوز ہم نے دبایا ہے دل میں
ہے محمود دل جاں غلامی میں اُن کی
جہاں کا ہے نغمہ جو گایا ہے دل میں

0
1
2
جامع مگر مختصر خلاصہ
یہ نعت شریف، محبتِ رسولِ اکرم ﷺ، ذکرِ مصطفیٰ ﷺ اور مدینہ منورہ کی آرزو کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کو محبتِ احمد ﷺ کا چراغ قرار دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ نامِ مبارک اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ اس کے دل میں بسے ہوئے ہیں اور اس محبت کو چھپانا ممکن نہیں۔

کلام میں مدینہ منورہ کی روحانی روشنی، جالیِ مبارک کا تصور اور مدینے سے آنے والی بہار کو دل کی تازگی اور سکون سے جوڑا گیا ہے۔ نعتیہ نغموں کو بھی ایسی روحانی کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو دل میں محبت اور عقیدت جگاتی ہے۔

آخر میں شاعر مدینہ منورہ سے بلاوے، حاضری کی دعا اور غلامیِ رسول ﷺ کو اپنی سب سے بڑی آرزو قرار دیتا ہے۔ مجموعی طور پر نعت کا مرکزی مضمون دل میں محبتِ رسول ﷺ کا چراغ روشن رکھنا اور مدینے کی حاضری کی تڑپ ہے۔

0