مسلسل آزماتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
"خلش دل کی بڑھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے"
سبھی شمعیں بجھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
اندھیرے کو بڑھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
چلا کر بغض و نفرت کی ہوا اے میڈیا والو!
محبت کو مٹاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
حفاظت ہم نے کی ہر دور میں بھارت کی لیکن اب
ہمیں دشمن بتاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
ہمیشہ آشیاں جس ڈال پر بھی ہم بناتے ہیں
وہیں بجلی گراتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
میاں ہم کھل کے کرتے ہیں محبت ہو کہ نفرت ہو
ہمیں لُچابتاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
ہمارے دم سے پائی شان و شوکت تم نے لیکن اب
ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
کبھی بھی جب کوئی اشعار میرے گنگناتا ہے
اسے خالؔد بلاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے

0
4