رشتوں میں پہلے جیسا وہ احساس کیوں نہیں؟
دل میں وہ ایک دوسرے کا پاس کیوں نہیں؟
ہر شخص بد حواس ہے زر کے نشے میں اب
اک دوسرے کو ملنے کی وہ پیاس کیوں نہیں؟
خود غرضیوں نے دل کو یوں تاریک کر دیا
امداد کی کسی سے بھی یہ آس کیوں نہیں؟
ظاہر میں خوش لباس ہیں اکثر یہاں کے لوگ
باطن بھی ہو حسین، وہ لباس کیوں نہیں؟
احسان بھول جاتے ہیں پل بھر میں لوگ سب
ماں باپ کی محبتوں کا پاس کیوں نہیں؟
کھو بیٹھے ہیں غرور میں پہچان حق سبھی
لکھے پڑھے ضمیر کے حوا س کیوں نہیں؟
اپنا گریباں جھانک ذرا تو بھی اے عتیق
تعلیم دین کا تجھے بھی پاس کیوں نہیں؟

0
8