ہم یہاں شعر و سخن سے غم بھلانے آئے ہیں
مسکراتی محفلوں میں مسکرانے آئے ہیں
اس قلم کی ہے عبادت مسکراہٹ بانٹنا
سامنے رب کے قلم کا سر جھکانے آئے ہیں
پھول جیسی بات کر کے جیت لیں گے سب کے دل
دوستوں کی بزم میں خوشبو لٹانے آئے ہیں
نفرتوں کے دور میں بھیجا گیا ہم کو مگر
گیت چاہت کے جہاں بھر کو سنانے آئے ہیں
ہے مبارک ان کا رونا جو معافی مانگ کر
نفرتوں کی آگ اشکوں سے بجھانے آئے ہیں

0
2