دلوں میں روشنی رکھنا یہی ایمان کافی ہے
سفر کتنا ترا دشوار ہو سامان کافی ہے
دعا لب پر رہے ہر دم یہی احسان کافی ہے
اگر نیت ہو سچی تو یہی پیمان کافی ہے
اندھیروں سے نہ گھبرا اک ذرا سی شمع جلنے دے
قدم بڑھتے ہی جائیں گے یہی امکان کافی ہے
محبت بانٹنے والوں کا سرمایہ نہیں گھٹتا
دلوں میں پیار زندہ ہو یہی ارمان کافی ہے
زمانہ لاکھ بھی چاہے مگر ہمت نہیں ٹوٹے
خدا پر آس ہو دل میں یہی وجدان کافی ہے
ہوا کے رخ بدل جائیں تو کشتی مت ڈبو دینا
بھنور میں صبر کا اک آسرا ہر آن کافی ہے
جو اپنے درد میں بھی دوسروں کے غم سمجھتا ہو
وہی انسان کہلائے یہی عرفان کافی ہے
سحر آتی ہی آتی ہے اندھیری رات گزرے تو
امیدوں کا چراغِ دل یہی سامان کافی ہے

2