| جلوہ گر ہے ہر طرف اس کی خدائی دیکھنا |
| ذرے ذرے میں اسی کی کبریائی دیکھنا |
| مہر و مہ کی روشنی ہو یا کہ تاروں کا وفور |
| خالقِ کون و مکاں کی روشنائی دیکھنا |
| کوہساروں کی بلندی، وادیوں کی وسعتیں |
| آسمانوں کی منزہ دلربائی دیکھنا |
| چاند کی ٹھنڈک میں پنہاں ہیں کئی رازِ نہاں |
| رات کے آنچل میں تاروں کی صفائی دیکھنا |
| جب خزاں کی زد میں آئیں پیڑ کے پتے تمام |
| گلستاں میں قدرتِ حق کی رسائی دیکھنا |
| بجلیاں جب کوندتی ہیں آسماں کے سینے پر |
| قہر میں بھی اک عجب سی حق نمائی دیکھنا |
| دشت و در کی خامشی ہو یا پرندوں کی چہک |
| نغمۂ فطرت میں بھی اس کی گواہی دیکھنا۔۔ |
| ذرہ ذرہ جب پکارے "یا الٰہی! یا قدیر!" |
| مشتِ خاکی کی وہی بے دست و پائی دیکھنا |
| قطرۂ شبنم کی صورت ہو کہ دریا کا خروش |
| بحر و بر میں اس کی ہر دم ہم نوائی دیکھنا |
| کیا سمائے گا کسی ادراک میں اس کا ظہور |
| عقل کی ہر انتہا پر نارسائی دیکھنا |
| نقش ہیں صحرا کی ریتوں پر اسی کے تذکرے |
| موجِ دریا میں بھی اس کی آشنائی دیکھنا |
| برگِ گل پر ہے رقم قدرت کا ہر اک شاہکار |
| رنگ و خوشبو میں اسی کی خود نمائی دیکھنا |
| جو بناتا ہے اندھیروں سے اُجالوں کا سماں |
| رات کے پچھلے پہر اس کی صفائی دیکھنا |
| خالدؔ! اس کی رحمتوں کا ہے کوئی حد و حساب؟ |
| اوجِ ایماں پر ذرا اپنی رسائی دیکھنا |
معلومات