| چَڑھتے سُورج کے ہی پُجاری ہیں |
| ہَم نے ہر دَور میں غُلامی کی |
| روزِ اَوَّل سے رَہْنُماؤں نے |
| گُفْتگُو ہی فَقَط عوامی کی |
| ہَم نے آواز بھی اُٹھائی تو |
| ایسے جیسے کہ خُود کَلامی کی |
| ہَر دَغا باز کے حَواری تھے |
| تھے نِیابَت میں ہَر حَرامی کی |
| ہَم کہ تَشْہِیر کا سَبَب ٹَھہرے |
| اَیروں غَیروں کی نامِ نامی کی |
| ہَم کہاں آئِینَہ دِکھا پائے |
| ہَم نے ہَر حال خُوش کَلامی کی |
| ہَم سَدا سے تھے حال مَسْتوں میں |
| ہَم نے ہَر حال خُوش خِرامی کی |
| ہَم کبھی ٹَس سے مَس نَہ ہو پائے |
| حَدْ نَہِیں پاٹے ہَڈ حَرامی کی |
| ہِم نے لِکھے تو بَس قَصیدے ہی |
| اور گَردانِ ہَر گِرامی کی |
| ہَم نِری خُوبیاں بَتاتے رَہے |
| ہَم نے کَب دُور کوئی خامی کی |
| (مرزا رضی اُلرّحمان) |
معلومات