مدد کو ہے دست گیر میرا
ہے پیر روشن ضمیر میرا
دِکھایا مرشِد نے کس طرح ہے
خدا علیم و خبیر میرا
ثبوت مرشِد نے ہیں دِکھائے
ہے رب سمیع و بصیر میرا
ہٹوں شریعت سے جو ذرا سا
یہ پیر پھر ہے نذیر میرا
خدا کی تحقیق و معرفت میں
ہے پیر ہر دم نصیر میرا
نبی کی بیعَت علی کی نسبت
دِلایا مرشِد بشیر میرا
اے کاش محشر میں پیر کہہ دیں
ذکؔی بھی ہے اک فقیر میرا

0
1