حیدری دیوانے بھی ہم ، دم بدم صدیقی ہیں ہم
دور رہتے ہیں ہم سے غم ، ہے کرم صدیقی ہیں ہم
۔
حیدر و عثمان و عمر کر کے بیعت ثابت کیا
ہے خلافت صدیق کی اور نعم صدیقی ہیں ہم
۔
سر بکف اٹھاتے ہیں ناز وہ فرشتے اور وہ ارم
ہر جگہ ہم ہیں اس لیے محتشم صدیقی ہیں ہم
۔
جھوم کر گو کہتے ہیں یہ سر لب آنکھیں ہاتھ اور زباں
روشنائی تختی ورق یہ قلم صدیقی ہیں ہم
۔
وہ خلیفہ پہلے ہوئے ، افضلٌ بعد الانبیاء
بات یہ بالتحقیق ہے ، محترم ! صدیقی ہیں ہم
۔
ہے سند بخشش کی ہمیں اے مدثر کافی یہی
مصطفی کے صدیق ہیں ، ان کے ہم صدیقی ہیں ہم

0
28