مٹی سے جو بنے تھے پتھر بنے ہوئے ہیں
کمزور سے یہ انساں، خود سر بنے ہوئے ہیں
یہ آگ سے ڈرا کر خود آگ ہی سے کھیلیں
لوگوں کے دل میں ان کے یوں ڈر بنے ہوئے ہیں
اخلاق میں گراوٹ کردار میں ہے پستی
انسان جانور سے بدتر بنے ہوئے ہیں
ذلت کا سامنا ہے انساں کو ہر جگہ پر
پستی کے راستوں کے رہبر بنے ہوئے ہیں
انصاف کا تو ہر سو فقدان اس لیے ہے
منصف سیاستوں کے خوگر بنے ہوئے ہیں
عادل ریاض کینیڈین

0
1