آتے ہیں اس مقام پہ مشکل سے چند لوگ
آئے جسے ہو دیکھنا یہ ہیں بلند لوگ
دنیا فقط بناتے ہیں دنیا میں بے وقوف
عقبی سنوارتے ہیں یہاں عقلمند لوگ
یوں تو ہمارے شہر میں لوگوں کی بھیڑ ہے
اہل نظر ہیں شہر میں معدودے چند لوگ
باہر نہ جا سکیں گے کبھی کائنات سے
ڈالیں خلاؤں پر بھلے جتنا کمند لوگ
مذہب نہ ذات دیکھیے بس کام آیۓ
مل جائیں گر کہیں بھی تمہیں درد مند لوگ
دریا دلی دکھائیں مگر دھیان میں رہے
دریا میں ہی نہ ڈال دیں احسان مند لوگ
دشواریوں کو کرتے ہیں آسان اس لیے
مجھ کو بہت پسند ہیں مشکل پسند لوگ
ازہر کلام کرنا واں ہمت کی بات ہے
کر لیں سبھی زبان جہاں پر کہ بند لوگ

0
7