| جو تیرے لہجے میں اِتنی مِٹھاس ہے |
| غرض کی آئے مجھے اِس سے باس ہے |
| مجھے تو زنداں میں مرنے کا ڈر نہیں |
| تُو قَصر میں بھی نِشیں بدحواس ہے |
| پی بھی لو شوق کا دریا جو تم اگر |
| نفس کی بُجھتی کہاں یارو پیاس ہے |
| کیا نہ کیا میں نے اِس کو رجھانے میں |
| مگر یہ دل مرا اب بھی اُداس ہے |
| جمؔال نت نئے فیشن کی دوڑ میں |
| برہنگی بھی حیا کا لباس ہے |
معلومات