| اشک سے رنگ بھی پیدا کر دے |
| آہ سے پار بھی بیڑا کر دے |
| جس کو چاہے اُسے عزت دے تُو |
| جس کو چاہے اُسے رسوا کر دے |
| ابر مایوسی کے چھٹ جائیں سب |
| کفر کا دور یہ سایہ کر دے |
| ہر فرامین پہ مٹتا جاؤں |
| مردِ مومن تُو سراپا کر دے |
| پاس سنت کا عطا کر مالک |
| عشقِ آقؐا میں جیالا کر دے |
| دین پر مٹنے کے ہوں جزبے بھی |
| رحمتِ خاص سے شیدا کر دے |
| التجا اتنی ہے ناصؔر کی بس |
| فضل کا تیرے سہارا کر دے |
معلومات