لبادہ ہے کہ بدن اسے اتار نہ دوں
عجیب سی ہے گھٹن اسے اتار نہ دوں
پھروں کہاں کہاں لے کے میں وجود بھلا
یہ راستہ ہے کٹھن اسے اتار نہ دوں

0
7