شہے دو سرؐیٰ کا میں در مانگتا ہوں
مدینے کے شام و سحر مانگتا ہوں
یہ آنکھیں بھی دیکھیں بہارِ ارم کو
مدینے کے باغ و ثمر مانگتا ہوں
طلب میں مدینہ منور ہے مولا
ملے اُنؐ کے کوچے میں گھر مانگتا ہوں
کرے جو نظارے نبیؐ کے حسن کے
الہی میں ایسی نظر مانگتا ہوں
یہ اوجِ فلک کی جو حسرت ہے دل میں
رہے اُنؐ کے قدموں پہ سر مانگتا ہوں
مدینے بلا لیں نبیؐ میرے دلبر
میں نالہء دل میں اثر مانگتا ہوں
اے محمود! بخشش ارادہ ہے دل کا
جو شہرِ نبیؐ کا سفر مانگتا ہوں

0
1