حجاب رخ سے اٹھاؤ جاناں ،میں چاند چہرے کی دید کر لوں
 قریب آکر ، نظر ملا کر ، گلے لگا لو میں عید کر لوں
 گلابی شیریں لبوں سے ساقی شرابی لذت کشید کر لوں
 جو تجھ کو چھو کر نشہ ہوا ہے ، اضافہ اس میں مزید کر لوں 
جفائیں کب تک کرے گا مجھ سے، رقیب سے یوں ملے گا کب تک
بٹھا کے دونوں کو روبرو اب ، میں حتمی گفت و شنید کر لوں
 ملن کا وعدہ ہوا پرانا ، رہوں گا کب تک میں منتظر یوں
 کہیں وہ ظالم ملے تو اس سے میں عہد و پیماں جدید کر لوں 
میں ہجر کیسے سہوں اب اس کا ، جو روٹھ بیٹھا خطائیں کر کے 
سحاب اُس کو منا لوں خود ہی ، یا خود کو اُس سے بعید کر لوں

3