| ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں کہیں پر |
| مگر تم ظرف دیکھو تو نہ آئے بل جبیں پر |
| نہ جانے دے گا اپنا آپ خالی خولی کر کے |
| مکاں کا کوئی قرضہ بالیقیں ہو گا مکیں پر |
| ہمارے فیصلے کرنے کو بیٹھے لوگ وہ ہیں |
| کسی کے رخ پہ چھینٹے ہیں، کسی کی آستیں پر |
| وہ ڈالیں حق پہ ڈاکہ اور پھر خیرات بانٹیں |
| ہم ایسے سادہ، ٹِکتے ہی نہیں پاؤں زمیں پر |
| ہمیں انسان سے، تم کو محبت ہے خدا سے |
| ہم اپنے دین پر ہیں اور تم بھی اپنے دیں پر |
| پتنگے اس طرح سے شمع کی لو پر فنا ہوں |
| جوانی میں امڈ آئیں مگس جوں انگبِیں پر |
| سنوارا ہم نے حسرتؔ آبیاری کی ہے برسوں |
| ہمارا حق نہیں بنتا ہے زلفِ عنبریں پر؟ |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۲ اپریل، ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat119@gmail.com |
معلومات