اتنی محرومی ! درِ ادراک سے باہر ہے ابھی
مال و دولت مری املاک سے باہر ہے ابھی
کہنا چاہا تھا کہ رک جاؤ مگر کہہ نہ سکا
یہ گزارش مری اوقات سے باہر ہے ابھی
اک ردا اس کا تقاضہ ہے مگر سمجھے تو
جسم میرا مری پوشاک سے باہر ہے ابھی
دل تو کہتا ہے بسا لیں اُسے دل میں اپنے
زخم اُس کا دلِ صد چاک سے باہر ہے ابھی
قصہ اِس عمر کا شاہدؔ جو گزاری نہ گئی
پر وہ قصہ مرے اوراق سے باہر ہے ابھی

0
7