| جمالِ گلشن و رنگِ بہاراں کون دیکھے گا |
| ترے ہوتے کسی کو جانِ جاں کون دیکھے گا |
| ترے پہلو میں آ کر ماہِ تاباں کون دیکھے گا |
| تری جانب سرِ محشر پریشاں لوگ دیکھیں گے |
| نہ دیکھا تُو نے تو پھر ایسے انساں کون دیکھے گا |
| یہاں پیرِ مغاں کی آنکھ سے سب کو ملے گی مے |
| یہ میخانہ ہے یاں کافر مسلماں کون دیکھے گا |
| تڑپتا مبتلائے شامِ ہجراں کون دیکھے گا |
| ہمیں ہے واسطہ شاہدؔ کسی زلفِ پریشاں سے |
| زمانے میں کوئی ہم سا پریشاں کون دیکھے گا |
معلومات