| کرسی کے خواب آتے ہیں بس تکنے آپ کو |
| آتے ہیں جھوٹے وعدے ہی بس رٹنے آپ کو |
| مہنگائی کا عذاب سہیں ہم عوام بس |
| مر جائیں دو گھڑی جو پڑیں سہنے آپ کو |
| کھا کر حرام مال ہے کاٹی تمام عمر |
| نکلیں گے سانپ قبر میں سے ڈسنے آپ کو |
| تعریف میں حریف کے گر بولنا پڑے |
| آتے مغلظات ہیں بس بکنے آپ کو |
| تیرے سخن سحاب سبھی آئینہ نما |
| پڑھتا ہے جو بھی دیکھتا ہے اپنے آپ کو |
معلومات