| ناداں دل کو طلب الفت ہے |
| تجھ سے ملوں میں اب حسرت ہے |
| خواہش مند ہوں تو آئے گا |
| پر تجھے آخر کب فرصت ہے |
| یار پہ پہلی نظر جب پڑ جائے |
| سمجھو! جنبشِ لب رخصت ہے |
| اس کے رخ پر ہے مایوسی |
| "دل میں اس کے سبب کلفت ہے |
| بزمِ رہؔبر میں تھا تنہا |
| اس کا آنا اب رحمت ہے |
| ناداں دل کو طلب الفت ہے |
| تجھ سے ملوں میں اب حسرت ہے |
| خواہش مند ہوں تو آئے گا |
| پر تجھے آخر کب فرصت ہے |
| یار پہ پہلی نظر جب پڑ جائے |
| سمجھو! جنبشِ لب رخصت ہے |
| اس کے رخ پر ہے مایوسی |
| "دل میں اس کے سبب کلفت ہے |
| بزمِ رہؔبر میں تھا تنہا |
| اس کا آنا اب رحمت ہے |
معلومات