کوئی دیوانہ بن کر بھی نہیں پیمانہ پیتا ہے
کوئی مخمور ہوتا ہے تو بھی دامن کو سیتا ہے
عجب انجامِ الفت ہے نچھاور جان کروا دے
کسی کی جان جو لے لے وہی انجان جیتا ہے
یہ جیون دوڑ ایسی ہے لپکنا سب کو پڑتا ہے
لپک کر جو جھپٹتا ہے تو سمجھو وہ ہی چیتا ہے
معانی عشق کے جس نے ہیں سارے ہی بدل ڈالے
گزاری عمر ساری پر وہ اِک لمحہ نہ بیتا ہے
بھلا ہم کون ہوتے ہیں کریں دعویٰ امیری کا
ہمارے پاس جو بھی ہے یہ سمجھو سب ہی نیتا ہے

0
4