| خود پرستی کا یہ عالم، دل نہیں پتھر ہوئے |
| دوستی کے نام پر سب، سود کے دفتر ہوئے |
| مسکراہٹ میں ہے دھوکا، آنکھ میں مکر و فریب |
| لفظ میٹھے زہر جیسے، جذبے سب منکر ہوئے |
| رُوح بکتی ہے یہاں پر، جِسم ہے معیارِ شوق |
| پیار کی تعریف بدلی، خواب بھی بے سر ہوئے |
| جو کبھی سچ بولتا تھا، اب وہ تنہا رہ گیا |
| جھوٹ والے تاج لے کر، اہلِ زر رہبر ہوئے |
| آدمی سے آدمی کا، فاصلہ بڑھتا گیا |
| مطلبوں کی دوڑ میں ہم، کس قدر کمتر ہوئے |
| سبدر اب انسانیت بھی، اک کہانی بن گئی |
| رحم دل سویا ہوا ہے، خواب در بستر ہوئے |
معلومات