| فتنوں کا دور دیکھو کیسا یہ آ رہا ہے |
| انساں کو راہِ حق سے کتنا ہٹا رہا ہے |
| بازار میں حیا کا، اب ذکر بھی نہیں ہے |
| بے پردگی کا عالم ہر گھر کو کھا رہا ہے |
| فیشن کا بھی جنوں ایسا طاری ہو گیا ہے |
| جو عصمتوں کے آنچل کو ہی گرا رہا ہے |
| ڈگری تو مل گئی ہے کردار مل نہ پایا |
| ہمدم چراغِ علم و فن بجھتا جا رہا ہے |
| غیبت سے نیکیاں بھی مٹی میں مل رہی ہیں |
| بغض و حسد بھی رشتوں کو اب تو ڈھا رہا ہے |
| حرص و ہوس میں لاکر، سود و ربا کا پیشہ |
| رزقِ حلال ہم سے کیسے گھٹا رہا ہے |
| نفس و ہوس کا غلبہ دل پے جو جم گیا ہے |
| خوفِ خدا کو اب وہ جڑ سے مٹا رہا ہے |
| اخلاص جو عمل کی جان و اساس تھی کل |
| اب تو ریا کا پردہ اس کو چھپا رہا ہے |
| بس اب تو لوٹ جا اس، کے در پہ اے منور |
| جو دیکھ کر گناہ بھی رحمت لٹا رہا ہے |
معلومات