ہم فکر آخرت کو پسِ پشت ڈال کر
محتاط ہو کے چلتے ہیں دنیا سنبھال کر
پوچھی کسی نے مجھ سے حقیقت جہان کی
اک مشت خاک میں نے دکھائی اچھال کر
جا ہی رہا ہے چھوڑ کے تو اتنا کرتے جا
لے جا تو اپنی یاد بھی دل سے نکال کر
جی بھی نہ بھر سکا تھا ابھی،اور جام ختم
ساقی تو اپنے رند کا بھی کچھ خیال کر
ہے آرزو کہ دیکھوں تری جنبشِ زبان
تو مجھ سے گفتگو نہ سہی کچھ سوال کر
بیٹھا ہوں کب سے آس لگائے میں دید کی
تو بھی تو کچھ اے دلربا فکرِ وصال کر
شامل ہو جس میں میرے، پسینے کی بھی مہک
مالک! مجھے عطا تو وہ رزقِ حلال کر
اپنے تو اپنے ،داد تجھے تیرے غیر دیں
پیدا تقیؔ تو خود میں اب ایسا کمال کر

0
8