محافظ سو رہے ہیں جب چمن کے
چمن لوٹیں سپاہی انجمن کے
کدھر ہیں جان اپنی جو لٹائیں
گئے عاشق کہاں سَروُ و سمن کے
جنھوں نے ہم کو آزادی دلائی
بڑے پکے تھے وہ اپنی لگن کے
اگر اک اور ہجرت ہے مقدر
در و دیوار چوموں میں وطن کے
پڑیں بیمار تو روئیں دوا کو
مریں تو بھی نہیں پیسے کفن کے
زمیں پیروں تلے جن کے نہیں ہے
بنے پھرتے ہیں وہ مالک گگن کے
کبھی بیٹھو گلوں کے ساتھ اور پھر
سنو قصے ہمارے بانکپن کے

0
2