| عشق کے صحرا میں آخر دل بھٹکتا رہ گیا |
| اپنے ہی جذبوں کی آہوں میں الجھتا رہ گیا |
| جاں فزا اک نور اُترا دل کے سونے پر کرن |
| میں مگر اس نور کے صدقے میں جلتا رہ گیا |
| دل نے جب تسخیر پائی ایک لمحے درمیاں |
| میں بھی اس کے سامنے کچھ بے سخن سا رہ گیا |
| ذکرِ حق کی تازگی نے روح کو چھو کر کہا |
| تُو یہاں آہی گیا، پر میں وہیں کا رہ گیا |
| راہِ الفت کی مسافت تھی بڑی دشوار بھی |
| میں تھکن سے ڈھیر ہوتا، اور وہ چلتا رہ گیا |
| گردشِ ہر موسم آخر دل پہ چھاپیں چھوڑ کر |
| وقت چلتا ہی گیا، سبدر کو غم ملتا گیا |
معلومات