کوئی بھی شہر کب اپنے مکان جیسا لگے
نہ کوئی شخص کسی مہربان جیسا لگے
کڑی ہو دھوپ تو سایہ ہی ساتھ ساتھ چلے
یہ کون ہے جو مجھے سائبان جیسا لگے
میں اُس کو سوچ کے چپ ہوں یہ چپ بھی ایسی ہے
کہ جیسے برف پہ کوئی نشان جیسا لگے
کوئی ہے سب کے لئے سجدہ ریز کچھ ایسے
ہر ایک شخص مجھے شادمان جیسا لگے
یہ کون رات کو پانی میں عکس رکھتا ہے
کہ چاند جھیل میں اک پاسبان جیسا لگے
تمام عمر جسے ڈھونڈتی رہیں آنکھیں
وہ ایک لمحہ بھی کیوں امتحان جیسا لگے
ہم اپنے گھر سے نکل تو پڑے تھے ہنستے ہوئے
سفر کا راستہ اب آسمان جیسا لگے
ہوا تو سچ ہی یہ کہتی رہی ہے چلتے ہوئے
یقین پختہ نہ ہو جو گُمان جیسا لگے
تمہارے ساتھ جو طارِق چلے سکندر ہے
ملے جو راستے میں ار مُغان جیسا لگے

0
5