| جوشِ جنوں میں کیسے عجب مشغلے رہے |
| در پیش ہر چٹان سے سر پھوڑتے رہے |
| ہستی کے کار زار میں بچنا محال تھا |
| وہ بچ گئے جو اپنی انا توڑتے رہے |
| یہ جان کر کہ کھیل تماشہ ہے زندگی |
| یہ رو دیئے، وہ ہنس پڑے، ہم کھیلتے رہے |
| سب جیتنے کے شوق میں لڑتے رہے یہاں |
| بازی ہمیں عزیز تھی ہم ہارتے رہے |
| مطلب پرست آپ کے سر پر سوار تھے |
| ہم دل سے چاہتے تھے، کھڑے دیکھتے رہے |
معلومات