| یہ رات بھی آخر ڈھلنی ہے |
| زنجیر بھی اب یہ ٹوٹے گی |
| یہ اونچے اونچے ایواں سب |
| مٹی میں گم ہو جائیں گے |
| نفرت کے ہیں جو سوداگر |
| پھر خوف سے تھر تھر کانپیں گے |
| جب سچ کی صدائیں گونجیں گی |
| جب بھوک سے جُھکتے کندھوں پر |
| امید نئی مسکائے گی |
| جب مذہب ذات و فرقوں کے |
| یہ کھوکھلے بندھن ٹوٹیں گے |
| جب بستی بستی گاؤں میں |
| آوازِ خلق بھی ابھرے گی |
| جب نفرت کے بازاروں سے |
| پھر ہاتھ مِلیں گے ہاتھوں سے |
| جب عدل کا سورج نکلے گا |
| روشن چہرے ہوجائیں گے |
| پھر ہاتھ مِلیں گے ہاتھوں سے |
| پھر دل سے دل مل جائیں گے |
| اور اس دھرتی کے بیٹے سب |
| آپس میں ہاتھ ملائیں گے |
| پھر راج نہ ہوگا نفرت کا |
| اک صبح نئی پھر آئے گی |
| اک شمس نیا پھر نکلے گا |
| اور آنے والا ہر موسم |
| سوغاتِ تمنا لائے گا۔۔۔ سوغاتِ تمنا لائے گا۔۔۔سوغاتِ تمنا لائے گا۔ |
معلومات