تیرے دیوانے اور بھی ہوں گے
پر ترے پاس ہم نہیں ہوں گے
ڈھونڈنا ہو ہمیں تو سن ناصح
کوچۂ جاناں میں کہیں ہوں گے
ٹھہریں گی نظریں اور بھی چہروں پر
تیرے جیسے مگر نہیں ہوں گے
بھولے سے بھی خیال آئے تو
ہم ، جدھر چھوڑا تھا وہیں ہوں گے
وہ کریں گے زبیر کیا جب ہم
درد سہنے کو ہی نہیں ہوں گے

0
13