| کسی کی یاد میں خود سے بکھر گئے ہیں لوگ |
| عجیب بات ہے، پھر بھی سنور گئے ہیں لوگ |
| جو اپنے ساتھ بھی کچھ دیر رہ نہیں پائے |
| وہ دوسروں کی نظر سے اتر گئے ہیں لوگ |
| تمام عمر جنہیں راستوں سے رغبت تھی |
| ذرا سی دھوپ پڑی تو ٹھہر گئے ہیں لوگ |
| جو عمر بھر کسی فرمان پر ہی چلتے رہے |
| وہ اپنے فیصلے کرنے سے ڈر گئے ہیں لوگ |
| زباں پہ سچ تھا مگر خوف بھی زمانے کا |
| سو اپنی بات سے خود ہی مکر گئے ہیں لوگ |
| کسی کے درد کو اپنا کہا تھا محفل میں |
| ضرورت آن پڑی تو کدھر گئے ہیں لوگ |
| جنہیں یقین تھا دنیا بدل ہی جائے گی |
| اسی یقین میں جیتے جی مر گئے ہیں لوگ |
| زمانے بھر کو جو شاہدؔ پتے بتاتے رہے |
| خود اپنے گھر کا پتا پوچھ کر گئے ہیں لوگ |
معلومات