| سمندروں کے جو اندر تلاش کرتے ہو |
| اسی کے فضل کے گوہر تلاش کرتے ہو |
| یہاں وفاؤں کا پیکر تلاش کرتے ہو |
| تم آسمان زمیں پر تلاش کرتے ہو |
| تلاش کرتے ہیں سب لوگ یاں پہ آئینہ |
| بس ایک تم ہو جو پتھر تلاش کرتے ہو |
| ہے سبز وادی بھی گلشن بھی گل بھی خوشبو بھی |
| بڑا حسیں ہے جو منظر تلاش کرتے ہو |
| تمہیں بھی چاہ تکاثر کی مار نہ ڈالے |
| ملا ہے گھر تو بڑا گھر تلاش کرتے ہو |
| تمام روپ تو اپنے دکھا چکا ہے تمہیں |
| اب اس کا کون سا پیکر تلاش کرتے |
| ہم اپنی جان ہتھیلی پہ لے کے پھرتے ہیں |
| ہماری آنکھ میں تم ڈر تلاش کرتے ہو |
| وصال یار کا یعنی یقین ہے تمکو |
| اسی لیے تو گل تر تلاش کرتے ہو |
| تم اپنے ہاتھ سے تقدیر کیوں نہیں لکھتے |
| ہتھیلیوں میں مقدر تلاش کرتے ہو |
| یہ آپدائیں تو عبرت ہیں آدمی کے لیے |
| تم آپداؤں میں اوسر تلاش کرتے ہو |
| یہ سارے چور ہیں ڈاکو ہیں اور لٹیرے ہیں |
| یہاں کہاں میاں رہبر تلاش کرتے ہو |
معلومات