تسکین میرے دل کی جاں کا قرار تم ہو
میں گل خزاں رسیدہ آقا بہار تم ہو
تیرے قدم سے روشن بزمِ جہاں ہوئی ہے
ہم عاصیوں کے شافع محشر حصار تم ہو
تم چاند ہو عرب کا تم روشنی عجم کی
جتنے ستارے رب کے سب کا مدار تم ہو
کتنے نبی مقدم آئے جہاں میں لیکن
رب کا مگر اکیلا اک شاہکار تم ہو
بھٹکے ہوئے ہیں ہم سب منزل ہماری تم ہو
ہم بے نوا مسافر آقا سلار تم ہو
سارے جہاں میں تیرا ثانی نہیں ہے کوئی
مجھ کو قسم خدا کی بس ذی وقار تم ہو
کیا لطف ہو کہ آقا کہہ دیں بروز محشر
ساغر حبیب میرے ہو جاں نثار تم ہو

0
4