| آرائشِ مکاں میں مکیں کو بھی دیکھنا |
| کعبے کو دیکھتے ہو جبیں کو بھی دیکھنا |
| کرتے رہو تلاش اسے کائنات میں |
| پوشیدہ خود میں یارِ حسیں کو بھی دیکھنا |
| رو بہ زوال ہیں سبھی یہ عظمتیں یہ شان |
| جو آسماں کو دیکھو زمیں کو بھی دیکھنا |
| گرچہ مسرتوں کے ہیں سامان بے شمار |
| اطراف میں تُو قلبِ حزیں کو بھی دیکھنا |
| رہتے مگن ہو خود پہ جو تم التفات میں |
| اندر مقیم گوشہ نشیں کو بھی دیکھنا |
| خود کی تلاش میں تُو ہمایوں بھٹکتا رہ |
| پہلو میں اپنے خاک نشیں کو بھی دیکھنا |
| ہمایوں |
معلومات