| یہ کیسی رت ہے کہ زنجیر بولنے لگی ہے |
| فضا بھی کرب کے اشعار گھولنے لگی ہے |
| وہ ایک بیٹی جو صحراؤں کی صدا ٹھہری |
| اسی کے نام سے ایوان کانپنے لگے ہیں |
| وہ جس کے لب پہ دعا تھی نظر میں روشنی تھی |
| ستم کی دھوپ اسے بھی نگلنے نکلی ہے |
| وہ ایک ماں کہ جسے عمر نے وقار دیا |
| اسی کے ہاتھ میں زنجیر ڈال دی گئی ہے |
| علاج بانٹنے والی دعاؤں جیسی ہنسی |
| عدالتوں کی اندھیر نگری میں گم ہیں |
| کسی کے لب پہ تبسم کسی کی آنکھ میں خواب |
| یہ سب متاعِ وفا ضبط کی گئی جیسے |
| میں سوچتا ہوں کہ تاریخ کے ورق بھی کبھی |
| یہ زخم خون سے لکھ کر سنبھال کے رکھیں گے |
| کہ جب ضمیر کی آواز قید خانے گئی |
| تو شہر بھر کے دریچوں پہ شام اتری تھی |
| جہاں بھی سچ کے چہروں پہ گرد ڈالی گئی |
| تو جھوٹ بھی وہیں سائے سے خوف کھاتا تھا |
| مگر یہ یاد رہے ظلم کی فصیلوں پر |
| یہ جبر کا موسم تو ٹھہر نہیں سکتا |
| ہوا کے ہاتھ میں آخر چراغ آجاتے ہیں |
| اندھیرے کا کوئی لمحہ ٹھہر نہیں سکتا |
| یہ لوگ خاک سہی خاک ہی سے اٹھیں گے |
| یہ لوگ درد سہی درد ہی سے جیتیں گے |
| کسی کے نام کو دیوار میں چنو تو کیا |
| صدا کا کام ہے پتھر میں راستہ کرنا |
| سو آج اشک بہاؤ مگر یہ یاد رہے |
| ہر ایک رات کے ماتھے پہ صبح ہی لکھی ہے |
| لہو سے سینچے گئے خواب مر نہیں سکتے |
| کسی بھی عہد میں سچ کو شکست ہو نہ سکی |
| جو قید خانوں کی تاریکیوں میں رکھے گئے |
| وہی چراغ زمانوں کو روشنی دیں گے |
| یہ رت گزر ہی جائے گی جبر ٹوٹے گا |
| زمینِ صبر کہ اک دن بہار پھوٹے گی |
معلومات