| کہیں پہ بھوک سے لاچار زندگی دیکھی |
| تو مرگ پر کہیں دولت ہے ناچتی دیکھی |
| کوئی غریب مسافر کو پوچھتا بھی نہیں |
| تمہارے شہر میں آ کر یہ بے رخی دیکھی |
| ہمارے ساتھ کبھی خوش نہ رہ سکو گے تم |
| کئی برس ہوئے ہم نے نہیں خوشی دیکھی |
| تو پھر میں اپنی فقیری پہ ناز کرنے لگا |
| جو بادشاہ کے چہرے پہ بے بسی دیکھی |
| جہاں میں اس سے بھی بڑھ کر بتاؤ کیا دیکھوں |
| کہ آدمی میں چھپی ہے درندگی دیکھی |
| کہا ہے کس نے مسیحا ہے وہ غریبوں کا |
| وہ شخص جس نے غریبی نہیں کبھی دیکھی |
| جہان رہنے کے قابل ہے میں یہ مانوں گا |
| اگر کہیں بھی زمانے میں راستی دیکھی |
معلومات