| میت سے فاطمہؑ کی جو لپٹے رہے حسینؑ |
| اماں کی بند آنکھوں پہ روتے رہے حسینؑ |
| اماں سے کہہ دیں بابا کہ اٹھ جائیں ایک بار |
| خاموش کیوں ہیں باتیں کریں ہوتا ہوں نثار |
| فریاد میری سن لو یہ کہتے رہے حسینؑ |
| اک بار مجھ کو ہاتھوں سے کھانا کھلا دو ماں |
| میں ہوں حسینؑ مجھ کو تو سینے لگا لو ماں |
| کچھ بولتئ نہیں ہیں تڑپتے رہے حسینؑ |
| میرا خیال رکھے گا کون اب تمھارے بعد |
| پانی مجھے پلائے گا کون اب تمھارے بعد |
| حسرت سے بس جنازے کو تکتے رہے حسینؑ |
| کیسے جیوں گا اماں یہاں پر ترے بغیر |
| ویرانیاں بھی کاٹیں گیں در در ترے بغیر |
| آنسو بہا کے بین یوں کرتے رہے حسینؑ |
| بن ماں کے زندگی میں اندھیرا ہے چھا گیا |
| یہ زیست سے ہماری اجالوں کو کھا گیا |
| رو رو کے حال دل کا سناتے رہے حسینؑ |
| تم کو خدا کا واسطہ دیتا ہے میرا دل |
| تم کو کفن میں دیکھ کے پھٹتا ہے میرا دل |
| آنکھوں کو کھولو ماں سے یہ کہتے رہے حسینؑ |
| صائب وہ شور و شین وہ بچوں کی تھی فغاں |
| ٹکڑے کلیجہ ہوتا تھا روتا تھا آسماں |
| مختار رو رو ماں کو بلاتے رہے حسینؑ۔ |
معلومات