| نغماتِ دو سریٰ ہیں مدحت حبیب کی |
| احسانِ کبریا ہیں الفت حبیب کی |
| ہستی میں نبض و جاں ہے ذکرِ رسول سے |
| زیور ہے زندگی کا چاہت حبیب کی |
| دیں رونقیں دہر کو الطافِ مصطفیٰ |
| کونین کا سکوں ہے رحمت حبیب کی |
| قوسین میں کھڑے ہیں سالار انبیا |
| عرشِ بریں نے دیکھی عظمت حبیب کی |
| بندہ بنا ہے مولا عشقِ رسول سے |
| فردوس سے بھلی ہے قربت حبیب کی |
| جبریل وجد میں ہے عشِقِ رسول سے |
| جانیں ملائے اعلیٰ عزت حبیب کی |
| چشمِ زدن میں آقا عرشِ بریں پہ تھے |
| دیکھے مقامِ سدرہ ہمت حبیب کی |
| گردوں میں گردشیں ہیں سرکار کے لئے |
| دیکھا جمال اس نے صورت حبیب کی |
| وسعت دہر میں آئے اُن پر درود سے |
| شامل صلات میں ہے عترت حبیب کی |
| محمود جانِ جاں ہیں سرکار مصطفیٰ |
| قرآنِ کبریا ہے سیرت حبیب کی |
معلومات