| کسی دن پھر ملو فرصت میں ہم باتیں کریں گے |
| بھلا کر فکر دنیا کی صنم باتیں کریں گے |
| ہمیں بس ہاتھ ماں کا تھام کر رونا بہت ہے |
| سنیں گے ہم نصیحت اور کم باتیں کریں گے |
| کہیں کیا فون پر ماں سے، کسی دن ان سے مل کر |
| کہیں گے ان سے اپنے سارے غم، باتیں کریں گے |
| جہاں کی سیر کر لی، مال و دولت بھی کمایا |
| دبائی ہیں جو دل میں محترم باتیں کریں گے |
| سنیں گے حالِ دل ان کا، کہیں گے اپنے من کی |
| ہمارے ساتھ جب اہلِ کرم باتیں کریں گے |
| کہیں کیا دور سے تم کو، خموشی ہی بھلی ہے |
| ہمارے ساتھ آؤ دو قدم باتیں کریں گے |
معلومات