تم مرے پہلو میں آئے دلکشی کو اوڑھ کر
رک گئی ہے رات پل بھر تشنگی کو اوڑھ کر
گفتگو اب دھڑکنوں کے درمیاں ہونے لگی
سو گیا ہے آج کمرہ خامشی کو اوڑھ کر
تیرے ماتھے پر لٹیں الجھی ہوئی ہیں اس طرح
چاند جیسے چھپ گیا ہو برہمی کو اوڑھ کر
جام کی حاجت نہیں ہوتی ترے بیمار کو
مست رہتا ہوں میں تیری بے خودی کو اوڑھ کر
فاصلے مٹنے لگے تو قربتوں کے باغ میں
روح مہکی ہے ملن کی تازگی کو اوڑھ کر
تیرے میرے درمیاں اب کوئی پردہ بھی نہیں
مل رہے ہیں آج دونوں تیرگی کو اوڑھ کر
گنگناتی ہے ہوائے شب تری آغوش میں
ناچتی ہے پور پور نغمگی کو اوڑھ کر
موت بھی آئے تو اس لمحے اسے میں موڑ دوں
جی رہا ہوں وصل میں اک زندگی کو اوڑھ کر
سارے پردے درمیاں سے آج یوں ہٹنے لگے
روح بھی عریاں ہوئی ہے سادگی کو اوڑھ کر
کھل گئی ہے آج تیری ہر ادا میرے حضور
چمک رہا ہے روپ تیرا صندلی کو اوڑھ کر
انتہائے عشق میں آنکھیں چھلکنے لگ گئیں
مسکرائے ہم ذرا سی شبنمی کو اوڑھ کر
چلمنوں سے آ گئی ہے اک سنہری سی کرن
دیکھتی ہے صبح ہم کو عاشقی کو اوڑھ کر

0
3