ہار اور جیت کا جو امکان لیے پھرتے ہیں
کتنے سادہ ہیں نقصان لیے پھرتے ہیں
دل میں تیرا غم نازک بدن اور کچھ سانسیں
دیکھ ذرا ہم کیا سامان لیے پھرتے ہیں؟
سچ تو یہ ہے اس کو ضرورت ہی نہیں ورنہ
وہ مانگے تو سہی ہم جان لیے پھرتے ہیں
یہ کوئی قربِ قیامت ہے یا فتورِ انساں
کتنے دروغ گو ہیں قرآن لیے پھرتے ہیں
ہر کوئی منصف ہے یہاں دوسرے کے عیبوں کا
آپ فرشتوں میں کیوں انسان لیے پھرتے ہیں

0
2