حد سے بڑھکر جو عقیدت کی ہے
جان من سے جو محبت کی ہے
چرچہ بھی پیار کا پھیلا ہر سُو
اس قدر آپ سے الفت کی ہے
سب نچھاور ہے اگر ہاں کر دے
صدق دل سے ہی جو چاہت کی ہے
روڑہ کچھ درمیاں حائل نا ہو
جب کہ اظہار رفاقت کی ہے
کون کیسے، کہاں، کس کو پائیں
بات تو ساری یہ قسمت کی ہے
ساز چھڑتا ہی لبوں پر جائے
پھر تو محفل ہی سماعت کی ہے
ہجر کو کیسے بھی ناصؔر بھولیں
یاد اب تک بچی فرقت کی ہے

0
22