| جو بویا تھا کبھی وہ کٹ رہا ہے |
| چمن میں زہرِ نفرت بٹ رہا ہے |
| یہ اپنے ہی کیے کا ہے نتیجہ |
| کہ لاشوں سے وطن اب پٹ رہا ہے |
| یہ خونی آندھیاں جب سے چلی ہیں |
| مرا ان سے کلیجہ پھٹ رہا ہے |
| مرے اک اشک پر مر مٹنے والا |
| وفا کرنے سے پیچھے ہٹ رہا ہے |
| اسی پر موت کے سائے ہیں لرزاں |
| یہاں جو اسمِ احمد رٹ رہا ہے |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات