جو بویا تھا کبھی وہ کٹ رہا ہے
چمن میں زہرِ نفرت بٹ رہا ہے
یہ اپنے ہی کیے کا ہے نتیجہ
کہ لاشوں سے وطن اب پٹ رہا ہے
یہ خونی آندھیاں جب سے چلی ہیں
مرا ان سے کلیجہ پھٹ رہا ہے
مرے اک اشک پر مر مٹنے والا
وفا کرنے سے پیچھے ہٹ رہا ہے
اسی پر موت کے سائے ہیں لرزاں
یہاں جو اسمِ احمد رٹ رہا ہے
عادل ریاض کینیڈین

0
11