رازِ ہستی بھی سنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
دل کے پردے بھی اٹھا لیں گے، تم آؤ تو سہی
دل کی ویران گلی میں جو اُتر آئے گا نور
ہم چراغوں کو جلا لیں گے، تم آؤ تو سہی
“میں” کی دیوار گرا کر تری جانب ہوں رواں
خاک کو عرش بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
عشق دریا ہے، ہمیں قطرہ نہیں رہنا اب
خود کو لہروں میں بہا لیں گے، تم آؤ تو سہی
ہجر کی رات میں بھی وصل کا پہلو نکلے
درد کو رقص بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
ذکر کی آنچ میں جلتے ہوئے لمحوں کے چراغ
ہم ابد تک یہ جلا لیں گے، تم آؤ تو سہی
ہر نفس نام ترا، ہر نظر آئینہ ہے
خود کو تجھ میں ہی چھپا لیں گے، تم آؤ تو سہی
“عادل” اس راہ میں کھو جانا ہی پانا ٹھہرا
ہم عدم ہو کے بقا لیں گے، تم آؤ تو سہی

0
27