انصاف کیلئے آواز اٹھانے کی زحمت رہیں
ڈھانا ظلم بھی نہایت ہی پر مذمت رہیں
کریں عام پیغام امن کا سر گرداں ہو کر
قائم ہونے تک سکوں جاری مزاحمت رہیں
خود خاطی پر نشانہ کیوں اوروں پر تانے
اپنے سے پردہ کر بیگانے کو ملامت رہیں
ہوئی حسد پر ابتداء اول جرم مقتل کی
نفس فاسد کی گویا یہی علامت رہیں
آئیں غضب میں قہرخداوندی گناہوں سے
دلوں پر چھائی جب گھنی ظلمت رہیں
بدلنا حالات کا ناصر ہے پیش خیمہ فتن کا
دعاء ہے کہ سب کچھ یہاں سلامت رہیں

0
37