عِشق کا جو مُرید ہو جائے
اُس کے ہاتھوں شہید ہو جائے
جِس کی نَظروں میں بَس گیا مَاہی
با مُراد و سَعید ہو جائے
تیری نَظروں میں آنے والا گَر
ضَال ہو تو رَشید ہو جائے
عِشق تیرا جِسے فَنا کر دے
با یَزید و فَرید ہو جائے
کیا عَجب وَاردات کرتے ہو
جو لُٹا مُستَفید ہو جائے
ہِجر تیرا جَلائے میرا دل
یہ چَراغاں مَزید ہو جائے
مَر مِٹے یہ غُلام اُلفت میں
اور فَاعِل مُعید ہو جائے

21